پہلی فتح کا خلاصہ بارہویں جماعت | Pehli Fatah

Pehli Fatah Khulasa | پہلی فتح کا خلاصہ

پہلی فتح کا خلاصہ بارہویں جماعت | Pehli Fatah

مصنف کا نام: نسیم حجازی

 فجر کی نماز کی بعد دمشق کے لوگ محمد بن قاسم کی فوج کا جلوس دیکھنے کے لئے مکانوں اور بازاروں کی چھتوں پر کھڑے ہوگئے گے۔ دنیا کی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ تھا کہ فوج کی قیادت کرنے والا ایک سترہ سالہ نوجوان تھا۔ دمشق اور بصرے کے شہر اور بستیوں سے کئی نوجوان، کم سن لڑکے اور بزرگ اس فوج میں شامل ہوگئے تھے۔ محمد بن قاسم کی روانگی کی اطلاع کوفہ اور بصرہ تک پہنچ چکی تھی۔

بصرے کی غیور قوم میں زبیدہ کی تبلیغ کے باعث یہ جذبہ پیدا ہو گیا تھا کہ ناہیدہ کا مسئلہ قوم کی ہر بہو بیٹی کا مسئلہ ہے۔ محمد بن قاسم کی والدہ جو کہ بیماری کے باوجود بھی بصرہ کی معمر عورتوں کے پاس جا کر جہاد کی تبلیغ کرنے کے لیے پہنچی۔ بصرہ کہ ہر خاص و عام اور امیر و غریب عورتوں نے بصرے کے بیت المال كو مجاہدین کی اعانت کے لیے سونے اور چاندی سے بھر دیا۔ قاسم نے تین دن دوسرا میں گزارے۔ محمد بن قاسم کی آمد سے پہلے حجاج بن یوسف کے پاس مکران کے گورنر محمد بن ہارون کا پیغام پہنچ چکا تھا کہ عبید اللہ کی قیادت میں 20 افراد میں سے دو بچے ہیں۔ باقی کے تمام تمام افراد کو دو بیل کے گورنر نے قتل کروا دیا ہے۔

دمشق سے جانے کے وقت محمد بن قاسم کی فوج کی تعداد پانچ ہزار تھی۔ جب وہ بصرہ سے روانہ ہوئے تو اس کے لشکر کی تعداد پانچ ہزار سے بڑھ کر مجموعی تعداد بارہ ہزار ہو چکی تھی۔ محمد بن قاسم کو لسبیلہ کے پہاڑی علاقوں میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بہیم سنگھ اپنے والد کی مخالفت کے باوجود بھی بیس ہزار کا لشکر لے کر لسبیلہ کے سندھی گورنر کے پاس اعانت کے لیے چلا گیا تھا۔

مسلمان جب پہاڑی علاقوں میں داخل ہوئے تو بہیم سنگھ کے سپاہیوں نے چھپ کر حملے شروع کر دیئے چالیس سپاہیوں کا ایک گروہ اچانک حملہ کرتا ہوا ظاہر ہوتا تھا۔ تیر اور پتھر برسا کر غائب ہو جاتا تھا۔ محمد بن قاسم نے جب یہ دیکھا تو فوج کے ہر اول دستے کی تعداد دگنی کردی لیکن حملوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ رات کے وقت شب خون ہونے کے ڈر سے ایک چوتھائی فوج کا حصہ ٹیلوں پر قابض ہو کر آس پاس قابض ہو کر پہرہ دینے لگا۔

ایک شام محمد بن قاسم کو ایک جاسوس آ کر کر بتاتا ہے کہ شمال کی طرف بیس کوس کے فاصلے پر ایک مضبوط قلعہ اس لشکر کا مستقر ہے۔ یہ جان کر محمد بن قاسم نے اپنے تجربہ کاروں کی ایک مجلس شوریٰ بلائی جس میں محمد بن قاسم نے فیصلہ کیا کہ آپ پانچ سو پیادہ سپاہی لے کر سب سے پہلے اس قلعے کو فتح کریں گے۔ تب ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

ایک بوڑھے سالار نے کہا کہ آپ نے جو تدبیر سوچیں ہے انشاءاللہ بہتر ہو گی۔ لیکن ایک سپا سلار کا فوج کے ساتھ رہنا ہی بہتر رہتا ہے۔ وہ فوج کا سہارا ہوتا ہے اگر آپ کو اس مہم میں کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے تو فوج کا کیا ہوگا؟

محمد بن قاسم نے کہا کہ قدسیہ کی جنگ میں ایرانیوں کی شکست کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے رستم سے زیادہ امیدیں وابستہ کر لی تھیں۔ تو مسلمانوں کی مٹھی بھر فوج کے مقابلہ میں ایرانی فوج دوم دبا کر بھاگ گئی۔ اس کے علاوہ سعد بن ابی وقاص (رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ) اپنے گھوڑے پر چڑھنے کے قابل نہیں تھے۔ لیکن مسلمانوں کا یہ عالم تھا کہ انہیں اپنے سپہ سالار کی غیر موجودگی کا احساس بھی نہ تھا۔ کافر ہمیشہ اپنے بادشاہ اور سپہ سالار کے لئے لڑتے ہیں۔ جبکہ ایک مسلمان اپنے خدا کے لئے لڑتا ہے۔ میں اپنے رب سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے قوم کے لیے رستم نہ بنایا جائے بلکہ مجھے حضرت مثنی (رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ) بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ جن کی شہادت نے ہر مسلمان کو جذبہ شہادت سے سرشار کر دیا تھا۔ میرے نزدیک اس پہ سالار کی جان کی کوئی اہمیت نہیں۔ جو اپنی جان سپاہیوں کے تلواروں کے پہرے میں چھپائے رکھتا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post